MOJ E SUKHAN

حد جنوں کے پار بھی جاتی رہی ہوں میں

غزل

حد جنوں کے پار بھی جاتی رہی ہوں میں
دامن سے اپنے آگ بجھاتی رہی ہوں میں

سب دیکھتے رہے ہیں تماشا کھڑے کھڑے
ہنس کر بدن کی خاک اڑاتی رہی ہوں میں

زنجیروں میں مری کوئی جھنکار تو نہیں
اشکوں سے اپنے شور مچاتی رہی ہوں میں

رکھا ہے سب نے قید قفس میں مجھے مگر
زنداں میں آفتاب کو لاتی رہی ہوں میں

کھینچی تھی آسماں پہ نگہ سے لکیر اک
آہوں سے ضرب روح مٹاتی رہی ہوں میں

وحشت میں رو برو جو فرشتے ہوئے شغفؔ
حرف دعا بھی ان کو پڑھاتی رہی ہوں میں

پروین شغف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم