MOJ E SUKHAN

حد سے بڑھ گیا میرا یہ ملال رستے میں

حد سے بڑھ گیا میرا یہ ملال رستے میں
وقت چل گیا ہم سے ایک چال رستے میں

یہ ہمارے اجڑے گھر اور نڈھال دیواریں
بار بار کرتے ہیں کیوں سوال رستے میں

ہجرتوں کے غم سارے اور یہ مریضِ دل
ہو نہیں سکی بہتر دیکھ بھال رستے میں

مٹ گئیں جو تصویریں جل گئے جو چوبارے
وہ دکھائی دیتے ہیں پر ملال رستے میں

خالی ہاتھ پہنچے ہم منزلِ تمنا پر
خواب ہوگئے سارے پایمال رستے میں

جیسے اب مجسم ہو وقت یاد کی صورت
یوں دکھائی دیتے ہیں ماہ و سال رستے میں

دائرے میں یادوں کے ہم رہے سفر کرتے
اور بدل گیا موسم بے مثال رستے میں

خود سے ہم تو ریحانہ بے طرح پشیماں ہیں
جب سے پوچھ بیٹھے ہیں اس کا حال رستے میں

ریحانہ احسان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم