MOJ E SUKHAN

حوصلہ کوئی شب وصل نکلنے نہ دیا

غزل

حوصلہ کوئی شب وصل نکلنے نہ دیا
درد دل نے مجھے اک دم بھی سنبھلنے نہ دیا

آسمانوں کو دلا ضبط نے جلنے نہ دیا
آتشیں نالہ مرے منہ سے نکلنے نہ دیا

ہم نے دل سوز تپ ہجر سے جلنے نہ دیا
ساتھ آہوں کے دھواں منہ سے نکلنے نہ دیا

باغیوں نے یہ کیا ظلم مثال شمشاد
نخل امید مرا پھولنے پھلنے نہ دیا

ذکر گیسوئے پریشاں سے پریشاں رکھا
دل کو میں نے شب فرقت میں سنبھلنے نہ دیا

خنجر ناز سے منظور جو تھا قتل مجھے
نیمچہ میان سے قاتل کی نکلنے نہ دیا

اے مسیحا تپ فرقت بھی بلا ہے کوئی
تیرے بیمار محبت کو سنبھلنے نہ دیا

خوف تاراجیٔ گلشن کا اسے تھا جو خیال
نالہ بلبل نے کبھی منہ سے نکلنے نہ دیا

لاکھ پھڑکا ہی کیا میں نے مگر اے صیاد
مرغ دل کو قفس تن سے نکلنے نہ دیا

بازیٔ عشق بھلا ہم سے وہ کیا لے جاتا
فاخرؔ اس شوخ کا چکمہ کوئی چلنے نہ دیا

فاخر لکھنوئی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم