MOJ E SUKHAN

خدایا عشق میں اچھی یہ شرط امتحاں رکھ دی

غزل

خدایا عشق میں اچھی یہ شرط امتحاں رکھ دی
لگا کر مہر خاموشی مرے منہ میں زباں رکھ دی

جو پوچھو دل سے شے تم نے کہاں اے مہرباں رکھ دی
بڑی نخوت سے کہتے ہیں جہاں چاہی وہاں رکھ دی

کسی کے جور بے حد پر بھی جب خاموش رہنا تھا
تو پھر کیوں اے خدا تو نے مرے منہ میں زباں رکھ دی

محبت کا نشاں تک بھی زمانے میں نہیں ملتا
اٹھا کر چیز یہ اے آسماں تو نے کہاں رکھ دی

کہاں تک حادثات برق و باراں سے رہوں خائف
خدا کا نام لے کر میں نے طرح آشیاں رکھ دی

ساحر سیالکوٹی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم