MOJ E SUKHAN

خواب ڈستے رہے بکھرتے رہے

غزل

خواب ڈستے رہے بکھرتے رہے
کرب کے لمحے یوں گزرتے رہے

کھو گئے یار ہم سفر بچھڑے
دل میں دکھ ہجر کے اترتے رہے

ہے یہی ایک زیست کا درماں
اشک آنکھوں کے دل میں گرتے رہے

چھا گئیں ظلمتیں زمانے میں
لاشے ہر سمت ہی بکھرتے رہے

لاکھ ہم تجھ کو بھولنا چاہیں
نقش مٹ مٹ کے پھر ابھرتے رہے

درد کی چوٹ دل پہ پڑتی رہی
ہر گھڑی زخم دل نکھرتے رہے

طاہرہ جبین تارا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم