MOJ E SUKHAN

خوشبو بھرے حصار میں ، قربت کی حد میں تھی

خوشبو بھرے حصار میں ، قربت کی حد میں تھی
کچھ اس طرح میں اس کی محبت کے مد میں تھی

خاموشیوں کا شور بھی کچھ حد سے بڑھ گیا
اِس عالمِ جنوں میں بھی میں اپنے قد میں تھی

اس آخری چراغ کے بجھنے کے خوف سے
ساری فضائے شہر ہی وحشت کی زد میں تھی

کچھ تیرگی کے سائے بھی پھیلے تھے ہر طرف
اور روشنی گمان کے ہالے کی حد میں تھی

‎میرا قلم کہانی میں سب سچ ہی لکھ گیا
بستی مری تبھی تو ، بغاوت کی زد میں تھی

اب میں ہتھیلیوں پہ رچا کر حنا کا رنگ
پھر مانگنے لگی وہ دعا بھی ، جو رد میں تھی

ڈاکٹر حنا امبرین طارق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم