MOJ E SUKHAN

خون دل ہے نکھار کانٹوں پر

غزل

خون دل ہے نکھار کانٹوں پر
دیکھتا جا بہار کانٹوں پر

انقلاب چمن کی بات کرو
ہم نے دیکھی بہار کانٹوں پر

میری دیوانگی بھی دیکھ چکی
دامن تار تار کانٹوں پر

فصل گل بھی گزار دی ہم نے
اے غم روزگار کانٹوں پر

دل کی بے خوابیاں نہ جائیں گی
نیند آئے ہزار کانٹوں پر

بات کیا ہے کہ اس کے غم کی طرح
لوٹتی ہے بہار کانٹوں پر

ہائے وہ چند حسن کار عروجؔ
جن کو آتا ہے پیار کانٹوں پر

عبدالرؤف عروج

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم