MOJ E SUKHAN

خوگر جور پہ تھوڑی سی جفا اور سہی

خوگر جور پہ تھوڑی سی جفا اور سہی
اس قدر ظلم پہ موقوف ہے کیا اور سہی

خوف غماز عدالت کا خطر دار کا ڈر
ہیں جہاں اتنے وہاں خوف خدا اور سہی

عہد اول کو بھی اچھا ہے جو پورا کر دو
تم وفادار ہو تھوڑی سی وفا اور سہی

جس نے ہنگامہ عدالت کا تری دیکھا ہے
اس گنہ گار کو اک روز جزا اور سہی

کشور کفر میں کعبہ کو بھی شامل کر لو
سیر ظلمات کو تھوڑی سی فضا اور سہی

بندگی میں تری سہتے ہی ہیں لو کی لپٹیں
چند دن کے لیے دوزخ کی ہوا اور سہی

دین و دل جا ہی چکا جان بھی جاتی ہے تو جائے
ترکش کفر میں اک تیر قضا اور سہی

رب عزت کے لیے بھی کوئی رہنے دو خطاب
تم خداوند ہی کہلاؤ خدا اور سہی

حکم حاکم نہ سہی مرگ مفاجات سے کم
مالک الملک پہ ایماں کی سزا اور سہی

ہم وفا کیشوں کا ایماں بھی ہے پروانہ صفت
شمع محفل جو وہ کافر نہ رہا اور سہی

مولانا محمد علی جوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم