MOJ E SUKHAN

خیال آتشیں خوابیدہ صورتیں دی ہیں

خیال آتشیں خوابیدہ صورتیں دی ہیں
سخاۓ ہجر نے اب بھی نمائشیں دی ہیں

یہ اب جو خواب زمانوں نے دستکیں دی ہیں
پس مراد حقائق کی منزلیں دی ہیں

مرے لباس کے پیوند مفلسی پہ نہ جا
مرے جنوں نے محبت کو خلعتیں دی ہیں

مرے مزاج کا موسم عجیب موسم ہے
کہ جس کے غم نے بھی ہستی کو رونقیں دی ہیں

ہم اہل عشق نے تاوان راحتیں دے کر
حدود عرصۂ وحشت کو وسعتیں دی ہیں

چلو یہ بات غلط ہے تو پھر بتاؤ مجھے
ہر ایک ہاتھ میں کس کس نے مشعلیں دی ہیں

شعور جائے تو فرصت سے نیند بھی آئے
فشار ذات نے فرحتؔ کو رنجشیں دی ہیں

ڈاکٹر فرحت عباس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم