MOJ E SUKHAN

در جو کھولا ہے کبھی اس سے شناسائی کا

در جو کھولا ہے کبھی اس سے شناسائی کا
ایک منظر نظر آیا مجھے تنہائی کا

اپنی آنکھیں نہ سجانا کسی دروازے پر
چشم حیراں کو بھروسہ نہیں بینائی کا

زخم آرائی میں سب زخم پرانے تھے مگر
زخم تازہ ہی رہا اس کی شناسائی کا

عرصۂ ہجر سے پھر وصل کی سرشاری تک
حوصلہ دل کو بہت چاہیئے پسپائی کا

راشد نور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم