MOJ E SUKHAN

درد لے جاتا زیاں لے جاتا

غزل

درد لے جاتا زیاں لے جاتا
کون یہ تحفۂ جاں لے جاتا

میں کہ لرزاں تھا جھکی شاخوں میں
مجھ کو جھونکا بھی کہاں لے جاتا

مجھ کو کیوں ڈھانپ دیا شاید میں
جل نہ سکتا تو دھواں لے جاتا

اتنا ارزاں ہے یہ بازار وفا
میں کہاں جنس گراں لے جاتا

تیرا کمرہ ہے مگر تو ہی نہیں
تو ہی آتا یہ سماں لے جاتا

تو مرا دوست ہے اے کاش کہ تو
آہ دے جاتا فغاں لے جاتا

اتنا پندار تو ہوتا مجھ میں
تو مکیں تھا میں مکاں لے جاتا

میں تو اس کا ہی تھا اقبال متینؔ
اس کا جی چاہے جہاں لے جاتا

اقبال متین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم