MOJ E SUKHAN

درد میں ڈوبی ہوئی اک داستاں کا اقتباس

درد میں ڈوبی ہوئی اک داستاں کا اقتباس
اس کے چہرے پر لکھا ہے کس جہاں کا اقتباس

خود ہی آجانا دریچہ درد کا تم کھول کر
خود ہی لکھنا صفحہء دل پر زیاں کا اقتباس

ہجرتوں میں ہجر کا ساماں ہوا جب وہ ملا
نارسائی ہی رہی عمرِ رواں کا اقتباس

تھے کتاب زندگی پر نام دونوں کے لکھے
بن گیا وہ داستاں ، میں داستاں کا اقتباس

کر رہا ہے خود کو وہ منسوب میرے نام سے
لکھ رہا ہے عشق کے بارِ گراں کا اقتباس

میں لبِ ساحل کھڑا سنتا رہا موجوں کا شور
اور وہ لکھتا گیا میرے گماں کا اقتباس

اک سفینہ چاہتوں کا اس کی آنکھوں میں رواں
وقت کے صحرا میں ہے وہ سائباں کا اقتباس

اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کا عکاس ہے
اس کا آنچل ہے چمکتی کہکشاں کا اقتباس

رس بھری کی بات سن کر سوچتا ہی رہ گیا
ہے یہی حسنِ بیاں یا ہے بیاں کا اقتباس

وقت کی پرواز میں اڑتے رہیں گے ساتھ ساتھ
ہے یہ روحوں کا سفر تو پھر کہاں کا اقتباس

بن گیا ہوں میں بھی اپنے دور کا شاہیں مرادؔ
میری ہر پرواز میں ہے آسماں کا اقتباس

شفیق مراد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم