MOJ E SUKHAN

درد والے ہو تو پھر ایسا کرو

غزل

درد والے ہو تو پھر ایسا کرو
ساتھ کچھ ہمدرد بھی رکھا کرو

اپنا بیگانہ نہ تم دیکھا کرو
ہر کسی سے مصلحت برتا کرو

دوسروں کے درد کی چھوڑو میاں
پہلے اپنے درد کا چارہ کرو

گو بلندی ہو کہ پستی ہر جگہ
ذہن و دل دونوں کھلے رکھا کرو

اس قدر خاموشیاں اچھی نہیں
لوگ کیا سوچیں گے کچھ سوچا کرو

جس کو جو ہونا ہے ہو ہی جائے گا
کون کیوں کیسے ہے کم سوچا کرو

صاف دکھ جائیں گے چہرے کے نقوش
آئینہ نزدیک سے دیکھا کرو

ہم سفر ہوں گے تو بچھڑیں گے ضرور
اس لئے اک اک سفر تنہا کرو

ہر نفس عاصیؔ خدا کی دین ہے
ہر نفس اک چوکسی برتا کرو

پنڈت ودیا رتن عاصی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم