MOJ E SUKHAN

درد کی خوشبو سے یہ مہکا رہا

درد کی خوشبو سے یہ مہکا رہا
جب کبھی کمرے میں میں تنہا رہا

عمر کی ندی چڑھی، اتری، گئی
جسم کا صحرا مگر جلتا رہا

دن کو تپتی فائلوں کی ریت پر
میں تو ابرق کی طرح بکھرا رہا

رات بھر اک جسم کی دیوار سے
میں کلینڈر کی طرح چپکا رہا

شب پلنگ پر ہانپتے سائے رہے
خواب دروازے کھڑا تکتا رہا

یاد کی ڈبی میں کیوں رکھو مجھے
میں جلی تیلی ہوں، مجھ میں کیا رہا

یوسف تقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم