MOJ E SUKHAN

دست بستوں کو اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے – Dast baston ko ishara bhi tou ho sakta hai

دست بستوں کو اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے
اب وہی شخص ہمارا بھی تو ہو سکتا ہے

میں یہ ایسے ہی نہیں چھان رہا ہوں اب تک
خاک میں کوئی ستارہ بھی تو ہو سکتا ہے

عین ممکن ہے کہ بینائی مجھے دھوکہ دے
یہ جو شبنم ہے شرارہ بھی تو ہو سکتا ہے

اس محبت میں ہر اک شے بھی تو لٹ سکتی ہے
اس محبت میں خسارہ بھی تو ہو سکتا ہے

گر ہے سانسوں کا تسلسل مری قسمت میں خیالؔ
پھر یہ گرداب کنارا بھی تو ہو سکتا ہے

احمدخیال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم