MOJ E SUKHAN

دل سرخ گلاب سا مہکے گا دن بدلیں گے

غزل

دل سرخ گلاب سا مہکے گا دن بدلیں گے
یہ صحرا رنگ اڑائے گا دن بدلیں گے

وہ رہنے والا دور دراز ستارے کا
اک روشن خط مجھے لکھے گا دن بدلیں گے

وہ چاند سے اگلے موڑ پہ مجھ سے ملنے کو
کئی صدیاں پاٹ کے آئے گا دن بدلیں گے

کہرے میں لپٹی کم روشن اس بستی میں
کوئی ہیر سنانے آئے گا دن بدلیں گے

پھر جاگ اٹھے گا سویا محل چپ ٹوٹے گی
پھر دل تیوہار منائے گا دن بدلیں گے

یہ دھواں بدن کا رقص کرے گا ہر لے پر
کوئی حال مرے سنگ کھیلے گا دن بدلیں گے

دن بدلیں گے اور راتیں سیج سجائیں گی
پھر ہجر وصال سے لپٹے گا دن بدلیں گے

یہ برف کا ٹکڑا دل میرا قاتل میرا
تری نیم نگاہ سے پگھلے گا دن بدلیں گے

میں ٹوٹ رہوں گی ایک قدیم روایت سی
وہ نئے زمانے لائے گا دن بدلیں گے

مرے معجزہ گر تری دائیں آنکھ کے نیلم میں
اک سعد ستارہ چمکے گا دن بدلیں گے

میری اوڑھنیاں سب کیسری رنگ میں رنگنے کو
رنگریز مرا پھر لوٹے گا دن بدلیں گے

جو بچھڑ گیا تھا وقت کی کچی ساعت میں
سنتی ہوں پلٹ کر آئے گا دن بدلیں گے

صائمہ زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم