MOJ E SUKHAN

دل لگایا ہے تو نفرت بھی نہیں کر سکتے

غزل

دل لگایا ہے تو نفرت بھی نہیں کر سکتے
اب ترے شہر سے ہجرت بھی نہیں کر سکتے

آخری وقت میں جینے کا سہارا ہے یہی
تیری یادوں سے بغاوت بھی نہیں کر سکتے

جھوٹ بولے تو جہاں نے ہمیں فن کاری کہا
اب تو سچ کہنے کی ہمت بھی نہیں کر سکتے

اس نئے دور نے ماں باپ کا حق چھین لیا
اپنے بچوں کو نصیحت بھی نہیں کر سکتے

ہم اجالوں کے پیمبر تو نہیں ہیں لیکن
کیا چراغوں کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے

قدر انسان کی گھٹ گھٹ کے یہاں تک پہنچی
اب تو قیمت میں رعایت بھی نہیں کر سکتے

فن کی تعظیم میں مر جاؤ گے بھوکے داناؔ
تم تو غزلوں کی تجارت بھی نہیں کر سکتے

عباس دانا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم