MOJ E SUKHAN

دل کی بات نہ مانی ہوتی عشق کیا کیوں پیری میں

دل کی بات نہ مانی ہوتی عشق کیا کیوں پیری میں
اپنی مرضی بھی شامل ہے اپنی بے توقیری میں

درد اٹھا تو ریزہ دل کا گوشۂ لب پر آن جما
خوش ہیں کوئی نقش تو ابھرا بارے بے تصویری میں

قید میں گل جو یاد آیا تو پھول سا دامن چاک کیا
اور لہو پھر روئے گویا بھولے نہیں اسیری میں

جانے والے چلے گئے پر لمحہ لمحہ ان کی یاد
دکھ میلے میں انگلی تھامے ساتھ چلی دل گیری میں

طوق گلے کا پاؤں کی بیڑی آہن گر نے کاٹ دیئے
اپنے آپ سے باہر نکلے زور کہاں زنجیری میں

شکر ہے جتنی عمر گزاری نان و نمک کی فکر نہ تھی
ہاتھ کا تکیہ خاک کا بستر حاصل رہے فقیری میں

توصیف تبسم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم