MOJ E SUKHAN

دل کی صورت ترے سینے میں دھڑکتا ہوں میں

غزل

دل کی صورت ترے سینے میں دھڑکتا ہوں میں
ہاں بظاہر ترے ہاتھوں کا کھلونا ہوں میں

اب جہاں چاند لب بام ابھرتا ہی نہیں
جانے کیوں پھر انہیں گلیوں سے گزرتا ہوں میں

کتنا نادان تھا میں ڈوب گیا جل بھی گیا
وہ بہت کہتا رہا آگ کا دریا ہوں میں

آرزو تھی کہ گلابوں کے دلوں میں رہتا
یہ سزا پائی کہ کانٹوں کا بچھونا ہوں میں

میرے پاس آ کے کوئی تشنہ لبی بھول گیا
میں تو سمجھا تھا کہ تپتا ہوا صحرا ہوں میں

قیس رامپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم