MOJ E SUKHAN

دنوں سے کیسے شبوں میں ڈھلتے ہیں دن ہمارے

دنوں سے کیسے شبوں میں ڈھلتے ہیں دن ہمارے
یہ ہم بدلتے ہیں یا بدلتے ہیں دن ہمارے

جو کٹ گیا ہے سفر ابھی تک نہیں ہمارا
خبر نہیں اور کتنا چلتے ہیں دن ہمارے

یہ کس کے جانے پہ بین کرتی ہیں چاند راتیں
یہ کس کے جانے پہ ہاتھ ملتے ہیں دن ہمارا

شمشیر حیدر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم