MOJ E SUKHAN

ذکر بھی اس سے کیا بَھلا میرا

Zikr bhi us se kia bhala mera

ذکر بھی اس سے کیا بَھلا میرا

اس سے رشتہ ہی کیا رہا میرا

آج مجھ کو بہت بُرا کہہ کر

آپ نے نام تو لیا میرا

آخری بات تم سے کہنا ہے

یاد رکھنا نہ تم کہا میرا

اب تو کچھ بھی نہیں ہوں میں ویسے

کبھی وہ بھی تھا مبتلا میرا

وہ بھی منزل تلک پہنچ جاتا

اس نے ڈھونڈا نہیں پتا میرا

تُجھ سے مُجھ کو نجات مِل جائے

تُو دُعا کر کہ ہو بَھلا میرا

کیا بتاؤں بچھڑ گیا یاراں

ایک بلقیس سے سَبا میرا

جون ایلیا – john elia

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم