MOJ E SUKHAN

زمیں کی خاک تو افلاک سے زیادہ ہے

زمیں کی خاک تو افلاک سے زیادہ ہے
یہ بات پر ترے ادراک سے زیادہ ہے

یہ آفتاب اسے دھوپ میں جلا دے گا
جو چھاؤں پیڑ کی پوشاک سے زیادہ ہے

خیال آتا ہے اکثر اتار پھینکوں بدن
کہ یہ لباس مری خاک سے زیادہ ہے

چھلک اٹھا ہوں اگر ساری کائنات سے میں
تو کیا یہ خاک ترے چاک سے زیادہ ہے

لباس دیکھ کے اتنا ہمیں غریب نہ جان
ہمارا غم تری املاک سے زیادہ ہے

عظیم حیدر سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم