MOJ E SUKHAN

زندگی چھوڑ کر کھڑے ہوئے ہیں

زندگی چھوڑ کر کھڑے ہوئے ہیں
ہم اُسی موڑ پر کھڑے ہوئے ہیں

اِک دعا ہے جو مانگنی ہے ہمیں
در پہ با چشمِ تر کھڑے ہوئے ہیں

سحر ہے ، بد دعا ہے یا ہے نظر
سب شجر بے ثمر کھڑے ہوئے ہیں

ایک چکر ہے پاؤں میں ایسا
راستے میں سفر کھڑے ہوئے ہیں

روشنی فرش پر بچھی ہوئی ہے
عکس دیوار پر کھڑے ہوئے ہیں

جانتے ہیں نہ کھل سکے گا کبھی
ایک در پر ، مگر کھڑے ہوئے ہیں

لوٹ جائیں کہ راستا بدلیں
راہ میں راہ بر کھڑے ہوئے ہیں

حمیرا راحت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم