MOJ E SUKHAN

ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف

ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف
تیرے لیے میں پاؤں پہ اپنے جم کے کھڑا تھا ایک طرف

ایک اک کر کے ہر منزل کی سمت ہی بھول رہا تھا میں
دھیرے دھیرے کھینچ رہا تھا تیرا رشتہ ایک طرف

دونوں سے میں بچ کر تیرے خواب و خیال سے گزر گیا
دل کا صحرا ایک طرف تھا آنکھ کا دریا ایک طرف

آگے آگے بھاگ رہا ہوں اب وہ میرے پیچھے ہے
اک دن تیری چاہ میں کی تھی میں نے دنیا ایک طرف

دوسری جانب اک بادل نے بڑھ کر ڈھانپ لیا تھا چاند
اور آنکھوں میں ڈوب رہا تھا دل کا ستارا ایک طرف

وقت جواری کی بیٹھک میں جو آیا سو ہار گیا
اختؔر اک دن میں بھی دامن جھاڑ کے نکلا ایک طرف​

اختر شمار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم