غزل
سانس میری یہ آخری تو نہیں
ساتھ تیرے ملی ہوئی تو نہیں
جب تلک ہے اسے گزاروں گا
زندگی تیری دی ہوئی تو نہیں
جو سہولت بنی ہے تیرے لیے
وہ سہولت بنی ہوئی تو نہیں
اپنا ہونا گنوانا پڑتا ہے
سہل اتنی بھی سادگی تو نہیں
چھوڑ آئے ہو جو بھری دنیا
پھر سے تم کو پکارتی تو نہیں
اے مرے دل فریب کیا تجھ کو
پھر سے امید شام کی تو نہیں
دل میں چنگاریاں سی جلتی ہیں
یہ محبت بھی آخری تو نہیں
ساری چھٹیوں میں تجھ کو یاد کیا
عشق ہے تجھ سے نوکری تو نہیں
نجمؔ کیوں پاگلوں سے پھرتے ہو
آئنے پر نظر پڑی تو نہیں
جی اے نجم