سب نہیں کچھ بش کی صورت میں نمایاں ہو گئیں
باقی ساری جھاڑیاں نظروں سے پنہاں ہو گئیں
چوتھی شادی کرتے ہی وہ چار کاندھوں پر چلا
مشکلیں اتنی پڑیں اس پر کہ آساں ہو گئیں
یونہی نا انصافیاں ہوتی رہیں تو ایک دن
دیکھنا ان بستوں کو تم جو ویراں ہو گئیں
ہاتھ اس کا دیکھنے کی اک ذرا کوشش جو کی
سب لکیریں ہاتھ کی گالوں پہ چسپاں ہوگئیں
واہ رے اے پارلر بیوٹی کے ہے تیرا کمال
کالی کالی شکل والی ماہِ تاباں ہو گئیں
دیکھ کر مصنوعی چہروں کو یہ حوا زادیاں
کچھ پریشاں ہو گئیں اور کچھ پری شاں ہو گئیں
مرد شاعر تھے تو تھے لیکن بیچاری شاعرات
گائیکی کے شوق میں کتنی غزل خواں ہو گئیں
میری قسمت دیکھیے دو بول کہنے کے عیوض
ایک تھی مس وہ مسز صفدر علی خاں ہو گئیں
یونہی گر انشا غزل پڑھتے رہے کچھ دیر میں
دیکھنا ان کرسیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں
صفدر علی خان انشا