MOJ E SUKHAN

سب پگھل جائے تماشہ وہ ادھر کب ہوگا

غزل

سب پگھل جائے تماشہ وہ ادھر کب ہوگا
موم کے شہر سے سورج کا گزر کب ہوگا

خواب کاغذ کے سفینے ہیں بچائیں کیسے
ختم اس آگ کے دریا کا سفر کب ہوگا

جس کا نقشہ ہے مرے ذہن میں اک مدت سے
گھر وہ تعمیر سے پہلے ہی کھنڈر کب ہوگا

میرے کھوئے ہوئے محور پہ جو پہنچائے مجھے
اب لہو میں مرے پیدا وہ بھنور کب ہوگا

سبز رکھا ہے جسے میں نے لہو دے کے قمرؔ
مہرباں دھوپ میں آخر وہ شجر کب ہوگا

قمر اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم