غزل
سبز خوشبو بن کے چہکی استعارہ شام کا
نرم دریا میں بہا دھیرے شکار ا شام کا
خواب زخمی کونج کی مانند کرلانے لگے
لڑکیوں کی آنکھ میں چمکا ستارا شام کا
اور پھر وہ مشترک غم سے بہل کر سو گئے
دھوپ سے زخمی پرندہ اور کنارہ شام کا
دوپہر کی حادثاتی موت پر افلاک نے
سارے عالم میں کیا جاری شمارہ شام کا
روشنی تو برقیاتی قمقموں میں قید ھے
ناں منافع صبح کا اب ناں خسارا شام کا
مظہرٍ آتش ہوں زاہد پر سمندر زاد ہوں
گرم دوپہروں میں جیسے، ابر پارہ شام کا
زاہد حسین جوہری