MOJ E SUKHAN

سحر کے بعد بھی جو لوگ جاگنے سے رہے

غزل

سحر کے بعد بھی جو لوگ جاگنے سے رہے
کسی بھی خواب کی تعبیر دیکھنے سے رہے

ہٹا رہے ہیں سبھی راہ سے مری پتھر
وہ میرے پاؤں کی زنجیر کاٹنے سے رہے

ہو دو قدم کی ہی دوری پہ تم کھڑے لیکن
قدم بڑھا کے مرا ہاتھ تھامنے سے رہے

میں آئنہ ہوں تمہارا اسی سبب سے تم
مرے وجود کی خوبی کو ڈھونڈنے سے رہے

ہے مختصر یہ کہانی کہ وہ مرے نا ہوئے
رہے پلٹنے سے وہ ہم بھی روکنے سے رہے

زمانہ دوڑ رہا ہے یہ کیسی دوڑ حناؔ
جو گھر سے نکلے وہ پھر گھر کو لوٹنے سے رہے

حنا عباس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم