MOJ E SUKHAN

سفر اداس بہت ہی اداس لگتا ہے

سفر اداس بہت ہی اداس لگتا ہے
نگر اداس بہت ہی اداس لگتا ہے

تمہارے بعد کہیں پر بھی دل نہیں لگتا
یہ گھر اداس بہت ہی اداس لگتا ہے

عجیب شخص ہے کہتا تو کچھ نہیں ہے ہمیں
مگر اداس بہت ہی اداس لگتا ہے

کیوں اس جہان میں یہ رونقیں سجا کر بھی
بشر اداس بہت ہی اداس لگتا ہے

بس ایک شخص کے جانے سے کیوں بھلا ہم کو
نگر اداس بہت ہی اداس لگتا ہے

تو تم ہی اس کی اداسی کو دور کردو نا
وہ گر اداس بہت ہی اداس لگتا ہے

کرن ضرور زمانے نے چھین لی ہوگی
قمر اداس بہت ہی اداس لگتا ہے

کرن رباب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم