MOJ E SUKHAN

سلسلہ روشن تجسس کا ادھر میرا بھی ہے

غزل

سلسلہ روشن تجسس کا ادھر میرا بھی ہے
اے ستارو اس خلا میں اک سفر میرا بھی ہے

چار جانب کھینچ دیں اس نے لکیریں آگ کی
میں کہ چلایا بہت بستی میں گھر میرا بھی ہے

جانے کس کا کیا چھپا ہے اس دھوئیں کی صف کے پار
ایک لمحے کا افق امید بھر میرا بھی ہے

راہ آساں دیکھ کر سب خوش تھے پھر میں نے کہا
سوچ لیجے ایک انداز نظر میرا بھی ہے

اب نہیں ہے اس کی کھڑکی کے تناظر میں بھی چاند
ایک پر اسرار موسم سے گزر میرا بھی ہے

یہ بساط آرزو ہے اس کو یوں آساں نہ کھیل
مجھ سے وابستہ بہت کچھ داؤ پر میرا بھی ہے

جینے مرنے کا جنوں دل کو ہوا بانیؔ بہت
آسماں اک چاہیے مجھ کو کہ سر میرا بھی ہے

راجیندر من چندا بانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم