MOJ E SUKHAN

سنو اب ہم محبت میں بہت آگے نکل آئے

غزل

سنو اب ہم محبت میں بہت آگے نکل آئے
کہ اک رستے پہ چلتے چلتے سو رستے نکل آئے

اگرچہ کم نہ تھی، چارہ گران شہر کی پرسش
مگر! کچھ زخم نا دیدہ بہت گہرے نکل آئے

محبت کی تو کوئی حد، کوئی سرحد نہیں ہوتی
ہمارے درمیاں یہ فاصلے، کیسے نکل آئے

بہت دن تک حصار نشہ یکتائی میں رکھا
پھر اس چہرے کے اندر بھی کئی چہرے نکل آئے

پرانے زخم بھرتے ہی، نئے زخموں کے شیدائی
مزاج آئنہ اوڑھے ہوئے گھر سے نکل آئے

تضاد ذات کے باعث کھلا وہ کم سخن ایسا
ادھوری بات کے مفہوم بھی پورے نکل آئے

خالد معین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم