MOJ E SUKHAN

سنوارے آخرت یا زندگی کو

غزل

سنوارے آخرت یا زندگی کو
کہاں اتنی بھی مہلت آدمی کو

بجھائی آنسوؤں نے آتش غم
مگر بھڑکا دیا ہے بیکلی کو

بھرم کھل جائے گا دانائیوں کا
پکارو تو ذرا دیوانگی کو

جو سر جھکتا نہیں ہے دل تو جھک جائے
فقط اتنی طلب ہے بندگی کو

جو دل سے پھوٹ کر آنکھوں میں چمکے
ترستے رہ گئے ہم اس ہنسی کو

پروین فنا سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم