MOJ E SUKHAN

سنگ در اس کا ہر اک در پہ لگا ملتا ہے

سنگ در اس کا ہر اک در پہ لگا ملتا ہے
دل کو آوارہ مزاجی کا مزا ملتا ہے

جو بھی گل ہے وہ کسی پیرہن گل پر ہے
جو بھی کانٹا ہے کسی دل میں چبھا ملتا ہے

شوق وہ دام کہ جو رخصت پرواز نہ دے
دل وہ طائر کہ اسے یوں بھی مزا ملتا ہے

وہ جو بیٹھے ہیں بنے ناصح مشفق سر پر
کوئی پوچھے تو بھلا آپ کو کیا ملتا ہے

ہم کہ مایوس نہیں ہیں انہیں پا ہی لیں گے
لوگ کہتے ہیں کہ ڈھونڈے سے خدا ملتا ہے

دام تزویر نہ ہو شوق گلو گیر نہ ہو
مے کدہ عرشؔ ہمیں آج کھلا ملتا ہے

عرش صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم