MOJ E SUKHAN

سیانے تھے مگر اتنے نہیں ہم

غزل

سیانے تھے مگر اتنے نہیں ہم
خموشی کی زباں سمجھے نہیں ہم

انا کی بات اب سننا پڑے گی
وہ کیا سوچے گا جو روٹھے نہیں ہم

ادھوری لگ رہی ہے جیت اس کو
اسے ہارے ہوئے لگتے نہیں ہم

ہمیں تو روک لو اٹھنے سے پہلے
پلٹ کر دیکھنے والے نہیں ہم

بچھڑنے کا ترے صدمہ تو ہوگا
مگر اس خوف کو جیتے نہیں ہم

ترے رہتے تو کیا ہوتے کسی کے
تجھے کھو کر بھی دنیا کے نہیں ہم

یہ منزل خواب ہی رہتی ہمیشہ
اگر گھر لوٹ کر آتے نہیں ہم

کبھی سوچے تو اس پہلو سے کوئی
کسی کی بات کیوں سنتے نہیں ہم

ابھی تک مشوروں پر جی رہے ہیں
کسی صورت بڑے ہوتے نہیں ہم

شارق کیفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم