MOJ E SUKHAN

شاعری بات نہیں گرم سخن ہونے کی

شاعری بات نہیں گرم سخن ہونے کی
شرط ہی اور ہے شائستۂ فن ہونے کی

میں کہ ہر دم مجھے بالیدگیٔ روح کی فکر
روح کو فکر ہے وارستۂ تن ہونے کی

رم بہ رم سلسلۂ موج غزالان خیال
دشت غربت کو بشارت ہو وطن ہونے کی

پرتو رنگ سے گلگوں ہوا معمورۂ چشم
دھوم ہے کوئے تماشا کے چمن ہونے کی

حق پرستی کو یہاں کون ہے آمادۂ دار
کس کو توفیق ہے بے گور و کفن ہونے کی

یا بچے گا نہ سحر تک کوئی درماندۂ شب
یا سحر ہی نہیں خاکم بدہن ہونے کی

درد کی سالگرہ خیر سے گزرے گوہرؔ
آ گئی رات وہی چاند گہن ہونے کی

گوہر ہوشیارپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم