MOJ E SUKHAN

شمع کی روشنی ہر سو بکھر جاتی تو اچھا تھا

شمع کی روشنی ہر سو بکھر جاتی تو اچھا تھا
اگر اس تک ہماری بھی نظر جاتی تو اچھا تھا

ہیں اس کے نام لیوا تو بہت اس شہر میں لیکن
رہِ الفت اگر اس کے بھی گھر جاتی تو اچھا تھا

بدل جاتی ہماری زندگی پا کر تمہیں جاناں
اگر قسمت ہماری بھی سنور جاتی تو اچھا تھا

میں اپنا پیرہن رنگوں سے اس کے شوخ کر لیتی
دھنک جو میرے آنگن میں اتر جاتی تو اچھا تھا

دوائے دل اکیلی کیا کرے گی درد کا درماں
مسیحائی بھی ساتھ اے چارہ گر جاتی تو اچھا تھا

وہ آغاز محبت کی جو باتیں تھیں رہیں باتیں
جو چاہت دیدہ و دل سے گزر جاتی تو اچھا تھا

صبیحہ ہم بہت پچھتائے عرض مدعا کرکے
جو اپنی آرزو دل میں ہی مر جاتی تو اچھا تھا

صبیحہ خان صبیحہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم