غزل
شورِ محشر جب یہاں اپنے تئیں سو جائے گا
پھر کوئی بیدارِ شب نغمہ ترا ہی گائے گا
پھر سے کوئی جستجو کرتا ہوا جو پائے گا
پھر اسی کے ہاتھ میں قسمت کا لکھا جائے گا
شب جو گزرے گی کسی کی یوں غزل کہتے ہوئے
خواب آنکھوں میں کسی کے پھر اترتا جائے گا
جب کبھی تنہائی میں مجذوب ہو رقصِ عمل
رقصِ عالم میں وہ اک تارہ ہی تو بن جاۓ گا
کب تلک روٹھا رہے گا تو مقدر سے بھلا
کب تلک آخر تو خود کو اس طرح بہلائے گا
کچھ نہیں باقی رہے گا ختم ہوگی زندگی
کیا لٹائے گا تو آخر کیا بچا لے جائے گا
دل گرفتہ ہے یہاں چھایا ہوا گہرا سکوت
اک کہانی ہے جسے کم کم سنایا جائے گا
آصف سہل مظفر
Asif Sehal Muzaffar