MOJ E SUKHAN

ضبط اور احتیاط سے آگے

غزل

ضبط اور احتیاط سے آگے
عشق کرنا بساط سے آگے

وہ بھلا عشق کس طرح کرتا
نہ گیا انضباط سے آگے

اس کے پہلو میں جو گزارا ہے
ہر وہ پل انبساط سے آگے

اس زمانے میں اب وفا کا چلن
کم ہوا انحطاط سے آگے

دل سے دل کا ملاپ ایسا ہو
روح کے اختلاط سے آگے

ہجر کے دکھ میں خواب قربت کے
عیش سے اور نشاط سے آگے

تم اگر ساتھ دو تو کیا دنیا
ہم چلیں پل صراط سے آگے

عنبرین_خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم