MOJ E SUKHAN

طاق میں کون رکھ گیا ایک دیا اور ایک پھول

غزل

طاق میں کون رکھ گیا ایک دیا اور ایک پھول
دھیان میں پھر سے جل اٹھا ایک دیا اور ایک پھول

میرے تمہارے درمیاں قطرۂ اشک رائیگاں
پچھلی رتوں کا سانحہ ایک دیا اور ایک پھول

خواب ہی خواب میں کٹی عمر تمام جل بجھی
تیرا کہا مرا سنا ایک دیا اور ایک پھول

شام فراق کی قسم اور تو کچھ نہ پاس تھا
تیرے لئے بچا لیا ایک دیا اور ایک پھول

بام مراد تک مرے ہاتھ نہ جا سکے مگر
دیر تلک جلا کیا ایک دیا اور ایک پھول

تیری اداس آنکھ سے میرے خموش ہونٹ تک
حرف وصال کیا ہوا ایک دیا اور ایک پھول

جشن کی رات جب ترے نام پہ لوگ چپ سے تھے
میں نے یوں ہی اٹھا لیا ایک دیا اور ایک پھول

عشرت آفرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم