MOJ E SUKHAN

عشق میں اشک جو بہاتی ہوں

Ishq main Ashk jo Bahati Hoon

غزل

عشق میں اشک جو بہاتی ہوں
جان کر میں فریب کھاتی ہوں

آئینہ دِل کے رُو برو رکھ کر
اُس کی تصویر میں سجاتی ہوں

شُغل کرتی ہوں شاعری سے جب
بزمِ شعر و ادب میں جاتی ہوں

ایک منظر کشی بھی ہو جِس میں
شعر ایسے بھی لکھ کے لاتی ہوں

ذہن بھی شاعری کا ہو جِس دم
اُسی لمحے قلم اُٹھاتی ہوں

خوبصورت ہے زندگی میری
رنج وغم سے نہ خوف کھاتی ہوں

دِل، درخشاںؔ ہے اپنے سینے میں
زندگی بھر خوشی لُٹاتی ہوں

درخشاں صدیقی

Darakhshan siddiqui

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم