MOJ E SUKHAN

عقدہ کُشائے عالمِ امکاں کہیں جسے

عقدہ کُشائے عالمِ امکاں کہیں جسے
محرومیوں کے درد کا درماں کہیں جسے

شاید ہمارے بعد اسی خاک سے اٹھے
ایسا بھی ایک شخص کہ انساں کہیں جسے

خالد علیگ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم