MOJ E SUKHAN

علاوہ جلوۂ معنی کے کل جہاں دیکھا

غزل

علاوہ جلوۂ معنی کے کل جہاں دیکھا
جو چیز دیکھنے کی تھی اسے کہاں دیکھا

چھپائے رکھا ہمیشہ نگاہ گلچیں سے
نہ دیکھنے کی طرح سوئے آشیاں دیکھا

یہ یاد ہے کہ ملاقات تو ہوئی تھی کہیں
مگر یہ یاد نہیں ہے تمہیں کہاں دیکھا

قفس میں نیند بھی کیسے فریب دیتی ہے
کھلی جو آنکھ تو گلشن نہ آشیاں دیکھا

زمیں کے ظلم بھی برداشت ہم نے ہنس کے کئے
ترا بھی دبدبہ اے جور آسماں دیکھا

ہزاروں زخم تھے انسانیت کی میت پر
تمام دامن فطرت کو خونچکاں دیکھا

جو لوگ حفظ زباں کی زبان دیتے تھے
تو قیصرؔ ان کو ہی غارت گر زباں دیکھا

قیصر حیدری دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم