MOJ E SUKHAN

غم میں اک موج سر خوشی کی ہے

غم میں اک موج سر خوشی کی ہے
ابتدا سی خود آگہی کی ہے

کسے سمجھائیں کون مانے گا
جیسے مر مر کے زندگی کی ہے

بجھیں شمعیں تو دل جلائے ہیں
یوں اندھیروں میں روشنی کی ہے

پھر جو ہوں اس کے در پہ ناصیہ سا
میں نے اے دل تری خوشی کی ہے

میں کہاں اور دیار عشق کہاں
غم دوراں نے رہبری کی ہے

اور امڈے ہیں آنکھ میں آنسو
جب کبھی اس نے دل دہی کی ہے

قید ہے اور قید بے زنجیر
زلف نے کیا فسوں گری کی ہے

میں شکار عتاب ہی تو نہیں
مہرباں ہو کے بات بھی کی ہے

بزم میں اس کی بار پانے کو
دشمنوں سے بھی دوستی کی ہے

ان کو نظریں بچا کے دیکھا ہے
خوب چھپ چھپ کے مے کشی کی ہے

ہر تقاضائے لطف پر اس نے
تازہ رسم ستم گری کی ہے

سید احتشام حسین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم