MOJ E SUKHAN

قیامت سے قیامت سے گزارے جا رہے تھے – Qayamat se qayamat se guzaray ja rahe thy

قیامت سے قیامت سے گزارے جا رہے تھے
یہ کن ہاتھوں ہزاروں لوگ مارے جا رہے تھے

سنہری جل پری دیکھی تو پھر پانی میں کودے
وگرنہ ہم تو دریا کے کنارے جا رہے تھے

سمندر ایک قطرے میں سمیٹا جا رہا تھا
شتر سوئی کے ناکے سے گزارے جا رہے تھے

چمن زاروں میں خیمہ زن تھے صحراؤں کے باسی
ہرے منظر نگاہوں میں اتارے جا رہے تھے

سبھی تالاب پھولوں اور کرنوں سے بھرا تھا
بدن خوش رنگ پانی سے نکھارے جا رہے تھے

احمد خیال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم