لفظ تحریر بنتے جاتے ہیں
میری تقدیر بنتے جاتے ہیں
بہہ رہے ہیں جو آنکھ سے آنسو
دل کی تفسیر بنتے جاتے ہیں
کتنے سرکش ہیں آپ کے گیسو
جیسے زنجیر بنتے جاتے ہیں
نیند سی آگئی خیالوں کو
خواب تعبیر بنتے جاتے ہیں
جو بھی غم ملتے ہیں زمانے سے
اپنی جاگیر بنتے جاتے ہیں
بول رانجھے کی نَے کے اے مفتی ؔ
وقت کی ہیر بنتے جاتے ہیں
سید عبدالستار مفتی