غزل
لمحوں کے پرندے ہیں لئے چونچ میں کنکر
سہما سا ڈرا سا ہے کھڑا زیست کا لشکر
اک پھول لب دریا جو ڈالی سے گرا تھا
پانی میں گیا جانئے کس سمت وہ بہہ کر
چبھتا ہے ہر اک لمحہ جو اک خار کی صورت
آنکھوں سے مری چھین لے اب کوئی وہ منظر
سچ یہ بھی کہ دشوار ہے رستہ ترے گھر کا
سچ یہ بھی کہ رستے میں ہے دریا نہ سمندر
تلوار لئے لوگ مرے گھر میں کھڑے تھے
مٹی کا صباؔ فرش پہ ٹوٹا تھا کبوتر
صبا اکرام