MOJ E SUKHAN

لمحہ در لمحہ گزرتا ہی چلا جاتا ہے

لمحہ در لمحہ گزرتا ہی چلا جاتا ہے
وقت خوشبو ہے بکھرتا ہی چلا جاتا ہے

آبگینوں کا شجر ہے کہ یہ احساس وجود
جب بکھرتا ہے بکھرتا ہی چلا جاتا ہے

دل کا یہ شہر صدا اور یہ حسیں سناٹا
وادئ جاں میں اترتا ہی چلا جاتا ہے

اب یہ اشکوں کے مرقعے ہیں کہ سمجھتے ہیں نہیں
نقش پتھر پہ سنورتا ہی چلا جاتا ہے

خون کا رنگ ہے اس پہ بھی شفق کی صورت
خاک در خاک نکھرتا ہی چلا جاتا ہے

واپسی کا یہ سفر کب سے ہوا تھا آغاز
نقش پا جس کا ابھرتا ہی چلا جاتا ہے

جیسے تنویرؔ کے ہونٹوں پہ لکھی ہے تاریخ
ذکر کرتا ہے تو کرتا ہی چلا جاتا ہے

تنویر احمد علوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم