MOJ E SUKHAN

لو آج سمندر کے کنارے پہ کھڑا ہوں

لو آج سمندر کے کنارے پہ کھڑا ہوں
غرقاب سفینوں کے سسکنے کی صدا ہوں

اک خاک بہ سر برگ ہوں ٹہنی سے جدا ہوں
جوڑے گا مجھے کون کہ میں ٹوٹ گیا ہوں

اب بھی مجھے اپنائے نہ دنیا تو کروں کیا
ماحول سے پیمان وفا باندھ رہا ہوں

مستقبل بت خانہ کا حافظ ہے خدا ہی
ہر بت کو یہ دعویٰ ہے کہ اب میں ہی خدا ہوں

افکار دو عالم نہ جھنجھوڑیں مجھے اس وقت
اپنے ہی خیالات کی دلدل میں پھنسا ہوں

منزل کا تو عرفان نہیں اتنی خبر ہے
جس سمت سے آیا تھا اسی سمت چلا ہوں

مدت ہوئی گزرا تھا ادھر سے مرا سایہ
کب سے یوں ہی فٹ پاتھ پہ خاموش پڑا ہوں

ہوں آپ کا بس مجھ کو ہے اتنا ہی غنیمت
اس سے کوئی مطلب نہیں اچھا کہ برا ہوں

پہناؤ مرے پاؤں میں زنجیر بوئے گل
آوارہ چمن میں صفت باد صبا ہوں

چھیڑو نہ مجھے جان ضیاؔ فصل جنوں میں
کیا میں بھی کوئی نغمۂ اندوہ ربا ہوں

ضیاء فتح آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم