MOJ E SUKHAN

لوگ حیران ہیں اس پار سے ہوتا کیا ہے

لوگ حیران ہیں اس پار سے ہوتا کیا ہے
ایک دیوار ہے دیوار سے ہوتا کیا ہے

اس کی عادت ہے تماشا سا لگائے رکھنا
اور اس صاحبِ اسرار سے ہوتا کیا ہے

بادشاہی تو فقیری میں بھی ہو جاتی ہے
تخت سے تاج سے دربار سے ہوتا کیا ہے

ہم نے اک لفظ سے تاریخ بدل کر رکھ دی
کر کے دکھلایا کہ انکار سے ہوتا کیا ہے

کوئی یوسف نظر آئے تو ذرا پوچھئے گا
ایک بھی ہو تو خریدار سے ہوتا کیا ہے

روز سمجھاتا ہوں خود کو کہ ترے پاس ہے کیا
ایک کردار ہے کردار سے ہوتا کیا ہے

پیش کرنی ہے تو پھر دولتِ دل پیش کرو
آجکل درہم و دینار سے ہوتا کیا ہے

طارق نعیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم